Skip to main content

Main Lafzoon Ki Bhikarin Hon Urdu Poet By Miss Dua Ali | Massom Pathai's Blog

میں لفظوں کی بھکارن ہوں


میں لفظوں کی بھکارن ہوں
مرے کاسے میں تو دو بول تو دے دے مرے سائیں
تو میرا شاہ لفظوں کا
مرے کاسے میں تو دو بول تو دے دے مرے سائیں
یہ تیرے بول ہیں  انمول کچھ تو سوچ اے سائیں
میں گم سم تیری سوچوں میں
خیالوں میں ترے کھوئی


میں بھٹکی راستہ، در پر ترے آئی
مجھے دَھن کی نہ چاہت ہے نہ دولت کی تمنا ہے
مجھے لفظوں کی چاہت ہے
مرے کاسے میں تو دو بول تو دے دے مرے سائیں
مرے سب خواب ٹوٹے ہیں
مرا دل ریزہ ریزہ ہے
مرے من میں ہے سناٹاچلی دل میں نہ پروائی
محبت کے عنایت کے ذرا سی اپنی چاہت کے
مرے کاسے میں تو دو بول تو دے دے مرے سائیں
مری آنکھوں میں ٹوٹے خواب کی ہیں کرچیاں بکھری
یہ کالی رات لمبی ہے بڑی لمبی ہے تنہائی
مرا اشکوں سے تر دامن
میں گم سم تیری سودائی
میں بھٹکی راستہ در پر ترے آئی
تو میرا شاہ لفظوں کا
مرے کاسے میں تو دو بول تو دے دے مرے سائیں





Comments

Popular posts from this blog

Aabhi Eshq Ky UmaTi AOr Bhi HAinn CHaman AoR Bh ASiyaN AOr BHi Urdu GHazaL

  ابھی عشق کے امتی اور بھی ہیں۔ چمن اور بھی آشیان اور بھی ہیں مقامتِ اِحافہ اور بھی ہے تم شاہین ہے پرویز ہے کام تیرا ٹائر سمنے آسمان اور بھی ہیں کی تیرے زماں اےمکاں اور بھی ہیں۔ گا دن کی تنھا تھا میں انجمن میں یہ اب میرا راز دان اور بھی ہے  

Poem, Operation Raddul Fasad By Muhammad Moghirah Siddique | Raaz Ki Batain | Masoom Pathani

اس نے مجھے میرے خوابوں میں یرغمال بنا رکھا ہے.  اس نے مجھے میرے خوابوں میں ڈرا رکھا ہے.  دھشت گردی کرتا ہے آکے  وہ میرے خوابوں میں.  جاگتے میں میں نے بھی اک پلان بنا رکھا ہے.  کہ پاک فوج نے بھی ملک میں  آپریشن ردالفساد شروع کر رکھا ہے.  اب کی بار میں بھی بلا ئونگا رینجرز والوں کو.  آکے وہ میرے خوابوں میں پکڑیں گے اسے.  ردافساد کی کی خاطر میں نے بھی اپنا نکاح رینجرز والوں کے ہاتھوں پڑھوانے  کا ارادہ بنا رکھا ہے. By: Muhammad Moghirah Siddique مانوذ  راز کی باتیں

KuchH Syy HoVa Bhi SarD Thi Kucchh Tha Tera Hawal Bh Dil Ko KHushi Ky Sath Sath Ho Tar Ha Milal Bhi Urdu Ghaza;l

  کچھ سے ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا تیرا ہوال بھی دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی بات وو آدھی رات کی رات وو پوری چانڈ کی چاند بھی عین بات ہے ہمیں تیرا جمال بھی سب سے نظر بچا کے وو مجھ کو کچھ ایسا دیکھتا ہے۔ ایک دفا سے رکو گا. گارڈیش-ماہ-سال بھی دل سے چمک سکوں گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لینا شیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی ہم کو نہ پا کے جب دل کا آجیب حال تھا۔ اب جو پلٹ کے دیکھئے بات تھی کچھ محل بھی میری طالب تھا ایک شاہس وو جو نہیں ملا تو پھر ہاتھ دعا سے یون گرا بھول گیا سوال بھی گاہ قریب شاہ راگ گاہ بعید وہم واحباب پر روح کے اور جال بھی شام کی نا سماج ہاوا پوچھ رہی ہے ایک پتا