Skip to main content

Wafa Men Ab Yeh Hunar Ikhtiyaar Karna Hai Urdu Ghazal By Mohsin Naqvi

 وفا میں اب یہ ہنر آپشن کرنا ہے۔

واہ سچ کہے نہ کہے ہیں کرنا بار





یہ تجھے کو جاگتے رہنا کا شوق کب کہنا ہے؟

مجھ سے خیر تیرا انتظار کرنا ہے۔

ہوا کی زاد میں جلانے میں ہیں آنسو کے چراغ

کبھی کبھی میں معافی مانگ لیتا ہوں۔

واہ مسکراہٹ کے نئے وسوسوں میں ڈال گیا

شرم کا کیا فائدہ؟

خود اپنے جزم کو ہو - برگ او بار کرنا ہے۔

تیرے فراق میں دن میں بوسہ تارہ کٹائی اپنانا

چلو یہ اشک ہی موتی سماج کے بارے میں آیا

کسی تارہ سے ہمین روزگار کرنا ہے۔

کبھی تو دل میں چھپے زخم بھی نمبر ہو

قبا سمجھ کے جسم تار تار کرنا ہے۔

خدا خبر یہ کوئی زید کے شوق ہے 'محسن'

ود اپنی جان کے دشمن کرنا ہے۔


محسن نقوی


Comments

Popular posts from this blog

Aabhi Eshq Ky UmaTi AOr Bhi HAinn CHaman AoR Bh ASiyaN AOr BHi Urdu GHazaL

  ابھی عشق کے امتی اور بھی ہیں۔ چمن اور بھی آشیان اور بھی ہیں مقامتِ اِحافہ اور بھی ہے تم شاہین ہے پرویز ہے کام تیرا ٹائر سمنے آسمان اور بھی ہیں کی تیرے زماں اےمکاں اور بھی ہیں۔ گا دن کی تنھا تھا میں انجمن میں یہ اب میرا راز دان اور بھی ہے  

KuchH Syy HoVa Bhi SarD Thi Kucchh Tha Tera Hawal Bh Dil Ko KHushi Ky Sath Sath Ho Tar Ha Milal Bhi Urdu Ghaza;l

  کچھ سے ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا تیرا ہوال بھی دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی بات وو آدھی رات کی رات وو پوری چانڈ کی چاند بھی عین بات ہے ہمیں تیرا جمال بھی سب سے نظر بچا کے وو مجھ کو کچھ ایسا دیکھتا ہے۔ ایک دفا سے رکو گا. گارڈیش-ماہ-سال بھی دل سے چمک سکوں گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لینا شیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی ہم کو نہ پا کے جب دل کا آجیب حال تھا۔ اب جو پلٹ کے دیکھئے بات تھی کچھ محل بھی میری طالب تھا ایک شاہس وو جو نہیں ملا تو پھر ہاتھ دعا سے یون گرا بھول گیا سوال بھی گاہ قریب شاہ راگ گاہ بعید وہم واحباب پر روح کے اور جال بھی شام کی نا سماج ہاوا پوچھ رہی ہے ایک پتا

Phul, Khushbu, Sahaab honaa To Ae Du’aa Mustajaab Honaa To Urdu GHazal By Ghalib Ayaz,

  پھول،خوشبو،صاحب ہونا ای دعا مستجاب ہونا میں گہن تک تجھے نہ لگنے دوں تم میرا احترام ہونا منزلیں انتظار میں ہونگی۔ ہاسلو!! ہم رکاب ہونا تو وکیف ای سرد او گرم بھی ہونا تمام غلطیاں دور کر دی گئیں۔ کامیاب ہونے کے لیے ایک بار اور مین استعمال دیکھ کر ہی جیتا ہون ہمیں کیا ہوا؟ غالب