Skip to main content

Chipky Chipky Rat Din An Soo Bahana Yad Hy Hm Ko Ab Tkk Ashiqi Ka Wo Zamana Yad Hy Urdu Ghazal

 چپکے چپکے رات دن آںسو بہانہ یاد ہے

ہم کو اب تک عاشقی کا وو زمانہ یاد ہے



توجھ سے وو پہلے-پہل دل کا لگانا یاد ہے

بار بار اٹھانا

اور تیرا ہرفے سے وو انکھیں لانا یاد ہے

تجھے کچھ ملتے ہی وو بیباک ہو جانا میرا

اور تیرا دانتوں میں وو اگلی دبنا یاد ہے

اور دوپٹے سے تیرا وو مجھے چھپنا یاد ہے

جان کر سوتا تجھے وو قصدِ پا بوسی میرا

اور تیرا ٹھکرا کے سر وو مسکورانا یاد ہے ۔

تجھے کو جب تنھا کبھی پانا سے از راہ لہاز

حال دل باتوں ہی باتوں میں جتانا یاد ہے

جب سیوا میرے تمھارا کوئی دیوانہ نہ تھا ۔

سچ کہو کچھ تم کو بھی وو کر ہانہ یاد ہے

ہیر کی نظروں سے بچ کر سب کی مرزی کے حلاف

وو تیرا چوری چھپے راتوں کو آنا یاد ہے

آ گیا گر وسل کی شب بھی کہاں ذکرِ فراق

وو تیرا رو رو کے مجھ کو بھی رولا یاد ہے

آج تک نظر میں ہے وو سہبت راز و نیاز

اپنا جانا یاد ہے تیرا بلانا یاد ہے۔

مِٹھی مِٹھی چھید کر باتے نِرالی پیار کی

ذکر دشمن کا وو باتوں میں اُڑنا یاد ہے

جب منا لینا تو پھر ہُد روٹھ جانا یاد ہے

چوری چوری ہم سے تم آکر ملے جس جگہ

شوق میں مہندی کے وو بے دست و پا ہونا تیرا

اور میرا وو چھیڑنا وو گڈگودنا یاد ہے

باوجود عدی.ع عتقا 'حسرت' مجھے

آج تک احدِ حَواس کا وُو فسانہ یاد ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Aabhi Eshq Ky UmaTi AOr Bhi HAinn CHaman AoR Bh ASiyaN AOr BHi Urdu GHazaL

  ابھی عشق کے امتی اور بھی ہیں۔ چمن اور بھی آشیان اور بھی ہیں مقامتِ اِحافہ اور بھی ہے تم شاہین ہے پرویز ہے کام تیرا ٹائر سمنے آسمان اور بھی ہیں کی تیرے زماں اےمکاں اور بھی ہیں۔ گا دن کی تنھا تھا میں انجمن میں یہ اب میرا راز دان اور بھی ہے  

KuchH Syy HoVa Bhi SarD Thi Kucchh Tha Tera Hawal Bh Dil Ko KHushi Ky Sath Sath Ho Tar Ha Milal Bhi Urdu Ghaza;l

  کچھ سے ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا تیرا ہوال بھی دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی بات وو آدھی رات کی رات وو پوری چانڈ کی چاند بھی عین بات ہے ہمیں تیرا جمال بھی سب سے نظر بچا کے وو مجھ کو کچھ ایسا دیکھتا ہے۔ ایک دفا سے رکو گا. گارڈیش-ماہ-سال بھی دل سے چمک سکوں گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لینا شیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی ہم کو نہ پا کے جب دل کا آجیب حال تھا۔ اب جو پلٹ کے دیکھئے بات تھی کچھ محل بھی میری طالب تھا ایک شاہس وو جو نہیں ملا تو پھر ہاتھ دعا سے یون گرا بھول گیا سوال بھی گاہ قریب شاہ راگ گاہ بعید وہم واحباب پر روح کے اور جال بھی شام کی نا سماج ہاوا پوچھ رہی ہے ایک پتا

Phul, Khushbu, Sahaab honaa To Ae Du’aa Mustajaab Honaa To Urdu GHazal By Ghalib Ayaz,

  پھول،خوشبو،صاحب ہونا ای دعا مستجاب ہونا میں گہن تک تجھے نہ لگنے دوں تم میرا احترام ہونا منزلیں انتظار میں ہونگی۔ ہاسلو!! ہم رکاب ہونا تو وکیف ای سرد او گرم بھی ہونا تمام غلطیاں دور کر دی گئیں۔ کامیاب ہونے کے لیے ایک بار اور مین استعمال دیکھ کر ہی جیتا ہون ہمیں کیا ہوا؟ غالب