Skip to main content

Tire Eshq Ki KHawaish Hy CHahat HOna Meri SadGi Dakh Kia Chahta Hai?Urdu Ghazal

 ٹائر عشق کی خواہش ہے چاہت ہونا

میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہے؟



کوئی بات سبر ازما چاہت ہونا

آپ کو جنت مبارک رہے زاہدوں کو

کی میں آپ کا

اہل محفل

بھاری بزم میں راز کی بات کہ دی

یہ سب نہ پھر کرو کوئی شام گھر میں رہو

وو اگہزل کی سچی کتاب ہے استعمال چپکے چپکے پڑھا کرو

کوئی ہاتھ بھی نہ ملا۔ ایگا جو گلے ملگے تپاک سے

تم نا مزاج کا شہر ہے زرا فاسلے سے ملا کرو

ابھی رہا میں کا.

تم جس نے دل سے بھولا دیا استعمال بھولنے کی دعا کرو

مجھے استغار سی لگتی ہے تم محبتوں کی کہانیاں

جو کہا نہیں وو سنا کرو جو سنا نہیں وو کہا کرو

کبھی حسین پردہ نشین بھی ہو زرہ عاشقانہ لباس میں

جو میں بن سنور کے کہیں چلو میرے ساتھ تم بھی چلا کرو

نہ ہو حجاب وو چانڈ سا کی نظر کا کوئی آسر نہ ہو

استعمال کریں

تمھارے گھر کی بہار ہے استعمال کریں آنسو سے ہرا کرو

 

Comments

Popular posts from this blog

Aabhi Eshq Ky UmaTi AOr Bhi HAinn CHaman AoR Bh ASiyaN AOr BHi Urdu GHazaL

  ابھی عشق کے امتی اور بھی ہیں۔ چمن اور بھی آشیان اور بھی ہیں مقامتِ اِحافہ اور بھی ہے تم شاہین ہے پرویز ہے کام تیرا ٹائر سمنے آسمان اور بھی ہیں کی تیرے زماں اےمکاں اور بھی ہیں۔ گا دن کی تنھا تھا میں انجمن میں یہ اب میرا راز دان اور بھی ہے  

Poem, Operation Raddul Fasad By Muhammad Moghirah Siddique | Raaz Ki Batain | Masoom Pathani

اس نے مجھے میرے خوابوں میں یرغمال بنا رکھا ہے.  اس نے مجھے میرے خوابوں میں ڈرا رکھا ہے.  دھشت گردی کرتا ہے آکے  وہ میرے خوابوں میں.  جاگتے میں میں نے بھی اک پلان بنا رکھا ہے.  کہ پاک فوج نے بھی ملک میں  آپریشن ردالفساد شروع کر رکھا ہے.  اب کی بار میں بھی بلا ئونگا رینجرز والوں کو.  آکے وہ میرے خوابوں میں پکڑیں گے اسے.  ردافساد کی کی خاطر میں نے بھی اپنا نکاح رینجرز والوں کے ہاتھوں پڑھوانے  کا ارادہ بنا رکھا ہے. By: Muhammad Moghirah Siddique مانوذ  راز کی باتیں

KuchH Syy HoVa Bhi SarD Thi Kucchh Tha Tera Hawal Bh Dil Ko KHushi Ky Sath Sath Ho Tar Ha Milal Bhi Urdu Ghaza;l

  کچھ سے ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا تیرا ہوال بھی دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی بات وو آدھی رات کی رات وو پوری چانڈ کی چاند بھی عین بات ہے ہمیں تیرا جمال بھی سب سے نظر بچا کے وو مجھ کو کچھ ایسا دیکھتا ہے۔ ایک دفا سے رکو گا. گارڈیش-ماہ-سال بھی دل سے چمک سکوں گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لینا شیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی ہم کو نہ پا کے جب دل کا آجیب حال تھا۔ اب جو پلٹ کے دیکھئے بات تھی کچھ محل بھی میری طالب تھا ایک شاہس وو جو نہیں ملا تو پھر ہاتھ دعا سے یون گرا بھول گیا سوال بھی گاہ قریب شاہ راگ گاہ بعید وہم واحباب پر روح کے اور جال بھی شام کی نا سماج ہاوا پوچھ رہی ہے ایک پتا