Talaash Mainn Haii Sher Bar Bar Guzrii Haii Jonn Mainn Jitnii Bhi Guzri BAt Kr Guzri Haai Urdu Ghazal
تالاش میں ہے سحر بار بار گزری ہے۔
جون میں جیتنی بھی گزری بات کر گزری ہے
ہوئی
ہے حضرت ناصح سے گفتگو جس شب
وو
شب ضرور سر ای کو یار گزری ہے ۔
وو
بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا ۔
وو
بات ان کو بہت نہیں گاوار گزری ہے۔
نا
گل کھلے ہیں نا ان سے ملے نا مائی پی ہے
عجیب
رنگ میں اب کی بہار گزری ہے۔
چمن
پہ شہر گل چھینے سے جانے کیا گزری۔
قفس
سے آج سب سے قرر گزری ہے۔
ڈاکا
سے نہیں مارا چوری سے نہیں ہوتا
نا
تجربہ کاری سے بات
رنگ
کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پائی ہے۔
مقصود
ہے ہم سے دل ہی میں جو سوچتی ہے
وان
دل میں کی صدمے دو یاد جی میں کی سب سہ لو
ان
کا بھی عجب دل ہے میرا بھی عجب جی ہے۔
ہر
زرہ چمکتا ہے انور الہٰی سے
ہر
سانس یہ کہتی ہے ہم ہیں تو ہُودا بھی ہے
سورج
میں لگے دھبہ فطرت کے کرشمے ہیں
لیکن
ہم کو کہیں کافر اللہ کی مرضی ہے۔
برکت
جو نہیں ہوتی نیات کی حربی ہے
سچ
کہتے ہیں شیخ 'اکبر' ہے حقیقت حق
ہان
ترک مائی او شاہد یہ ان کی بزرگِی ہے

Comments
Post a Comment