Dikhaa Haii BamBAri Dil Nahiin Azhar Kam Tum Kia Hum Sy Jo Phly Kaha Bhaijha So Marny Ka paim Kiyaa Urdu Ghazal
دیکھا ہےبیماری دل نہیں اظہر کام تم کیا
ہم سے جو پہلے کہا بھیجا سو مارنے کا پائم کیا
ناحق ہم مجبوروں پر یہ توہمت ہے مُحتاری کی
چاہتے ہیں تو آپ کرنے ہیں ہم کو اباس بدنام کیا
سارے رند اوباش جہاں کے تجھ سے سجد میں رہتے ہیں
بنکے تیرے تیرچھے سب کا تجھے کو امام کیا
سرزاد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کام ہی ہوئی
قبلہ کون حرام ہے کیا احرام
کچھ کے ہمیں کے بشندوں نے سب کو یہیں سے سلام کیا
شیخ جو ہے مسجد میں ننگا رات کو تھا مائی ڈھانے میں
کاش اب برقعہ مجھ سے اٹھا دے ورنا پھر کیا حاصل ہے
آکھ منڈے پر ان کو گو دیدار کو اپنا ہم کیا
رات کو رو سب کیا کیا یہ دن کو جو تم شام کیا
روح سے گل کو مول لیا قوم سے سرو اللہم کیا
سعادت سمی دونو ہم کے ہاتھ میں لا کر چھوڑ دیا
بھولے ہم کے قوال و قسام پر ہا۔
کام ہوا ہے سارے زا، ہر بات، سماج سے
استغنا کی چوگنی اِن نہ جوُوں میں ابرام کیا
ایسی آہو-ای-رام-ہردہ کی وحشت خونی مشکل تھی
سحر کیا ای اجاز کیا جن لوگو نی تجھے کو رام کیا
'میر کے دن-او-مذہب کو اب پوچھتے کیا
ہو اُن سے
جانے میرے جانے من
مزید پڑھے :Kissy Kahh Do Ki Mjhy Chot Diya Hai Humm Ny Bat Too Sach Haii Magar Baat HAii. Urdu Ghazal

Comments
Post a Comment