Ensha! Gee Acha Abb Kuch Kro Ya Sher Main Jii Ko Lagana Kiya Haii Wo Hashi Ko Sikho Sy Kiya Matlab Joo Ge Kangar Main Thikhana Kiya Urdu Ghazal
'انشا' جی اچھا اب کچھ کرو یہ شہر میں جی کو لگانا کیا ہے
وہ ہشی
کو سکھوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا
کیا
دل کے دریدہ دامن کو دیکھتے ہیں سوچو سے سچی
جس
جھولی میں ساو چھید ہوا ہمیں جھولی کا پھلانا کیا
شب
بیتی چاند بھی دو چلہ زنجیر پڑی دروازے میں
کیواں
دیر گا گھر آ گیا ہو سجنی سے کروگے بہانہ کیا
پھر
ہجر کی لمبی رات میاں سنجوگ کی تو یہی ایک گھڑی
جو
دل میں ہے لیب پر آنے دو شرمانا کیا گھبرانا کیا
ہمیں
روز جو ان کو دیکھا ہے اب حواب کا عالم لگتا ہے
ہم
روز جو ان سے بات ہوئی وو بات بھی تھی افسانہ کیا
ہمیں
حسین کے سچے موتی کو ہم دیکھ سکتے ہیں پر چھو نہ سکے
جس
سے دیکھ سکوں پر چھو نہ سکوں وو دولت کیا وو شہزانا کیا
ہمیں
بھی جالا دکھتے ہوئے آدمی ایک شو.الا لال بھبوکا پابندی
جب
شہر کے لاگ نہ راستے دینا کیوں بن میں نہ جا بسرام کرے
دیوانوں
کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانہ کیا
ازر
آنے میں بھی ہے اور بولتے بھی نہیں
منتظر
ہے دامِ روحسات کی یہ مار جائے تو جائے
پھر
یہ احسان کی ہم چھوٹ کے جاتے بھی نہیں
کیا
کہا پھر سے کہو ہم نہیں سنتے تیری
نہیں
سنتے تو ہم ایسا نہیں سناتے بھی نہیں۔
پیار
پردہ ہے کی چلمن سے لگے بائی ہے ۔
صاف
چھپتے بھی نہیں وقت آتے بھی نہیں
مجھ
سے لاگھر تیرے آنکھوں میں کھاتے تک رہے
تجھے
سے نازوک میری نظروں میں سمجھے بھی نہیں
دیکھتے
ہی مجھے محفل میں آپ ارشاد ہوا
جن
کو متلب نہیں رہتا وو ستاتے بھی نہیں
جان
پیاری بھی نہیں جان سے جاتے بھی نہیں

Comments
Post a Comment