Kiaaa Sher Mainn Hrr Shkhas Pershaniyan Saa Kiyaa Haii?? Dil Haii To Dharkny Ka Bahana Koii Dhondy Urdu Ghazal
کیا
شہر میں ہر شخص پریشاں سا کیا ہے؟
دل
ہے تو دھڑکنے کا بہانہ کوئی دھونڈے
پتھر
کی تارہ ہو جان سا کیوں ہے
آپ
کون سی منزل ہے رفیقو
ہم
نے سے کوئی بات نکلی نہیں ہم کی
کیا
کوئی نا. بات نظر آتی ہے ہم میں
مار
کے بھی چین نہ پایا سے کِدھر جائے گا۔
تم
نے تہرا. اگر گھر کے گھر جانے کی
ہہلی
آئی چارگارو ہوں گے بہت مرہم دان
پہلے
جب تک نہ دو عالم سے گوزر جاگے ۔
پر
مجھے ڈار ہے کی وو دیکھ کے ڈار جاگے
جب
تم آسی عرق شرم سے تار جاگے ۔
ہم
جہاں سے راوش تیر نظر جاگے
چشمے
گوہر بار کے کہ دو داریا۔
چاہ
کے گار آے تو نظروں سے اتر جائے گا
لا
جو مست ہیں تربت پہ گلابی آنکھے۔
اور
آگر کچھ نہیں دو پھول تو دھر جائیں گے
روح
روشن سے نقب اپنے الٹ دیکھو تم
مہر
و مہ نظروں سے یاراں کے اتر جائیں گے
ہم
بھی دیکھیں گے کوئی اہل نظر ہے کہ نہیں
'زوق' جو مدرسے کے بڑے ہوئے ہیں ملا
ان
کو مائی-ہانے میں لے آو سانور جاے
ذکرِ
اعلیٰ سے ہوا معلم
کس
کو ہے ذوقِ طلح کامی لیک
جنگ
بن کچھ مزہ نہیں ہوتا
تم
ہمارے کسی تارہ نہ ہو
ورنا
دنیا میں کیا نہیں ہوتا
ہم
نے کیا جانا کیا کیا لے کر
دل
کسی کام کا نہیں ہوتا
شوق
زور ازمنہ نہیں ہوتا
ایک
دشمن کی چارہ ہے نہ رہی
تم
سے تم آئی دعا نہیں ہوتی
تم
میرے پاس ہوتے ہیں گویا
جب
کوئی دور نہیں ہوتا
حال
دل یار کو لکھنا کیوں؟
ہاتھ
دل سے جوڑا نہیں ہوتا
رحم
کر ہسم-جان-اہر نہ ہو
سب
کا دل ایک ساتھ نہیں ہوتا
دامن
ہمیں کا جو ہے دراز سے ہو
دستِ
عاشق رسا نہیں ہوتا
چرا
دل سیوا سبر نہیں ۔
تو تمھارے سیوا نہیں ہوتا

Comments
Post a Comment