لگتا نہیں ہے دل میرا اُجڑے دن میں
کس کی بنی ہے علمِ ناپہ دار میں
اتنی جگہ کہنا ہے دل دہندہ میں
تم بھی گلوں کے ساتھ پیلے ہیں بہار میں
بلبل کو باحبان سے نہ سید سے گیلا
دو گز زمین بھی نہ ملی کو یار میں
جب سے تم نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے۔
سانگ ہر شُہس نے ہاتھو میں اتھا رکھا ہے
ہمیں کے دل پر بھی مشکل میں عشق میں گزری ہوگی
نام جس نے بھی محبت کا تحفہ رکھا ہے۔
پتھارو آج میرے سر پر باراستے کیوں ہو
میں نے تم کو بھی کبھی اپنا ہُودا رکھا ہے
اب میری دید کی دنیا بھی تماشہ ہے۔
تم نے کیا مجھ کو محبت میں بنا رکھا ہے۔
پی جا ایام کی طلحی کو بھی ہنس کر 'ناصر'
ہم کو سہنے میں بھی قدرت نے مزہ رکھا ہے
کچھ شیرفقت ان کو سنانے کے لیے ہیں
اب تم بھی نہیں تھیک کی ہر درد میتا دینا
کچھ درد کلیجے سے لگنے کے لیے ہیں
سوچو سے بڑی چیز ہے تہزیب بدن کی
ورنا یہ فرق آگ بوجھنے کے لیے ہیں

Comments
Post a Comment