Skip to main content

Duniya K Sitam Yaad Naa Apni Hii Wafa Yaad Abb Mjhy Kuch Nahiin Kuch Bh Muhabat Ky SIwa Yaad Urdu Ghazal

 دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد

اب مجھے کچھ نہیں کچھ بھی محبت کے سیوا یاد 



شاید کی میرے بھولنے والے نے کیا یاد

چھےڑا تھا جسے پہلے پہل تیری نظر نے

اب تک ہے وو ایک ناہمہ بے سجدہ یاد

جب کوئی حسین ہوتا ہے سرگرم نوازش

ہمیں وقت کچھ اور بھی آتا ہے سیوا یاد

کیا جانیے کیا ہو گیا ارباب جون کو

مارنے کی ادا یاد نہ جینے کی ادا یاد

اب تک ہے ٹائر دل کے دھڑکنے کی صدا یاد

ہان ہان تجھے کیا کام میری شہادتِ ہم سے

ہان ہان نہیں مجھے ٹائر دامن کی ہوا یاد

کیا لطف کی میں اپنا پتا آپ بتانا

کیا کوئی بھولی ہوئی ہے ھااس اپنی ادا یاد

Comments

Popular posts from this blog

Aabhi Eshq Ky UmaTi AOr Bhi HAinn CHaman AoR Bh ASiyaN AOr BHi Urdu GHazaL

  ابھی عشق کے امتی اور بھی ہیں۔ چمن اور بھی آشیان اور بھی ہیں مقامتِ اِحافہ اور بھی ہے تم شاہین ہے پرویز ہے کام تیرا ٹائر سمنے آسمان اور بھی ہیں کی تیرے زماں اےمکاں اور بھی ہیں۔ گا دن کی تنھا تھا میں انجمن میں یہ اب میرا راز دان اور بھی ہے  

KuchH Syy HoVa Bhi SarD Thi Kucchh Tha Tera Hawal Bh Dil Ko KHushi Ky Sath Sath Ho Tar Ha Milal Bhi Urdu Ghaza;l

  کچھ سے ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا تیرا ہوال بھی دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی بات وو آدھی رات کی رات وو پوری چانڈ کی چاند بھی عین بات ہے ہمیں تیرا جمال بھی سب سے نظر بچا کے وو مجھ کو کچھ ایسا دیکھتا ہے۔ ایک دفا سے رکو گا. گارڈیش-ماہ-سال بھی دل سے چمک سکوں گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لینا شیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی ہم کو نہ پا کے جب دل کا آجیب حال تھا۔ اب جو پلٹ کے دیکھئے بات تھی کچھ محل بھی میری طالب تھا ایک شاہس وو جو نہیں ملا تو پھر ہاتھ دعا سے یون گرا بھول گیا سوال بھی گاہ قریب شاہ راگ گاہ بعید وہم واحباب پر روح کے اور جال بھی شام کی نا سماج ہاوا پوچھ رہی ہے ایک پتا

Phul, Khushbu, Sahaab honaa To Ae Du’aa Mustajaab Honaa To Urdu GHazal By Ghalib Ayaz,

  پھول،خوشبو،صاحب ہونا ای دعا مستجاب ہونا میں گہن تک تجھے نہ لگنے دوں تم میرا احترام ہونا منزلیں انتظار میں ہونگی۔ ہاسلو!! ہم رکاب ہونا تو وکیف ای سرد او گرم بھی ہونا تمام غلطیاں دور کر دی گئیں۔ کامیاب ہونے کے لیے ایک بار اور مین استعمال دیکھ کر ہی جیتا ہون ہمیں کیا ہوا؟ غالب