Skip to main content

Raaz Kate Gi Pu Phuute Gi By Iftikhar Iffi Sahab

رات کٹے گی پو پھوٹے گی 

Raat Kate Gi Pu Puute Gi

افتخار افی


رات کٹے گی پو پھوٹے گی 
Raat Kate Gi Pu Phuute Gi
وقت کی آنکھیں دیکھیں گی 
Waqt Ki Aankhain Dekhain Gi
ہاتھ کی روٹی کھانے والے 
Haath Ki Roti Khane Wale
محل منار بنانے والے 
Mahel o Minaar Banane Wale
آدھے پیٹ نہ سوئیں گے
Aadhe Pait Na Soeen Gay


اب کسی مزدور کی بیٹی 
Ab Kisi Mazdoor Ki Beti
بالوں میں اگتی چاندی کے خوف سے آنکھ نہ موندے گی ۔
Baloon Men Ugti Chaandi Ke Khaof Se Aankh Na Moonde Gi


محنت کش کا خون پسینہ 
Mehnat Khash Ka Khoon Paseena
زر والوں کا چیر کے سینہ 
Zarr Waloon Ka Cheer Ke Seena
اپنا حق وصولے گا
Apna Haq Wusoole Ga


دم سادھے بیٹھی ہے ظلمت 
Dum Saadhe Baithi Hai Zulmat
لہو سے روشن دیئے کے آگے 
Lahoo Se Raoshan Diye Ke Aage
کانپ رہی ہے 
Kaamp Rahi Hai
دیکھ رہا ہوں
Dekh Raha Hon



امیدیں بر آئیں گی 
Umeedein Barr Aayeen Gi
دکھ کی گھڑیاں جائیں گی 
Dukh Ki Gharriyaan Jaeen Gi
تعبیروں کے کومل پودے 
Tabeeroon Ke Komal Paode
تیز ھوا کو روکیں گے
Taizz Hawa Ko Rokeen Ge
ھاں اب میں بھی دیکھ سکونگا 
Haan Ab Main Bhi Dekh Sakoon Ga
وقت کی آنکھیں دیکھیں گی
Waqt Ki Aankhein Dekheen Gi


شاعر افتخار افی
Poet Iftikhar Iffi


Comments

Popular posts from this blog

Aabhi Eshq Ky UmaTi AOr Bhi HAinn CHaman AoR Bh ASiyaN AOr BHi Urdu GHazaL

  ابھی عشق کے امتی اور بھی ہیں۔ چمن اور بھی آشیان اور بھی ہیں مقامتِ اِحافہ اور بھی ہے تم شاہین ہے پرویز ہے کام تیرا ٹائر سمنے آسمان اور بھی ہیں کی تیرے زماں اےمکاں اور بھی ہیں۔ گا دن کی تنھا تھا میں انجمن میں یہ اب میرا راز دان اور بھی ہے  

KuchH Syy HoVa Bhi SarD Thi Kucchh Tha Tera Hawal Bh Dil Ko KHushi Ky Sath Sath Ho Tar Ha Milal Bhi Urdu Ghaza;l

  کچھ سے ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا تیرا ہوال بھی دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی بات وو آدھی رات کی رات وو پوری چانڈ کی چاند بھی عین بات ہے ہمیں تیرا جمال بھی سب سے نظر بچا کے وو مجھ کو کچھ ایسا دیکھتا ہے۔ ایک دفا سے رکو گا. گارڈیش-ماہ-سال بھی دل سے چمک سکوں گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لینا شیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی ہم کو نہ پا کے جب دل کا آجیب حال تھا۔ اب جو پلٹ کے دیکھئے بات تھی کچھ محل بھی میری طالب تھا ایک شاہس وو جو نہیں ملا تو پھر ہاتھ دعا سے یون گرا بھول گیا سوال بھی گاہ قریب شاہ راگ گاہ بعید وہم واحباب پر روح کے اور جال بھی شام کی نا سماج ہاوا پوچھ رہی ہے ایک پتا

Phul, Khushbu, Sahaab honaa To Ae Du’aa Mustajaab Honaa To Urdu GHazal By Ghalib Ayaz,

  پھول،خوشبو،صاحب ہونا ای دعا مستجاب ہونا میں گہن تک تجھے نہ لگنے دوں تم میرا احترام ہونا منزلیں انتظار میں ہونگی۔ ہاسلو!! ہم رکاب ہونا تو وکیف ای سرد او گرم بھی ہونا تمام غلطیاں دور کر دی گئیں۔ کامیاب ہونے کے لیے ایک بار اور مین استعمال دیکھ کر ہی جیتا ہون ہمیں کیا ہوا؟ غالب