Skip to main content

Hum Wafa Kar Gaye Aur Bhulaya Nahi, Beautiful Ghazal By Miss Fozia Qureshi



 سوچتی ہوں کہیں کچه کمی رہ گئ
اُس نے عہدِ وفا ہی نبهایا نہیں 
آگ آنگن میں ایسی لگی تهی عجب
اپنا آنچل بهی اُس سے بچا یا نہیں 
ہم نے چاہا رہے دوستی کا بهرم
چاہ کر بهی اسے کچه بتا یا نہیں 
زرد پتوں کی مانند بکهرے تهے ہم
موسمِ گل کو لیکن بُهلا یا نہیں 



-------------------------------------------------------------

Hum Wafa Kar Gaye Aur Bhulaya Nahi By Miss Fozia Qureshi Sahiba



Aitbaar Iss Qadar Tha Keh Paya Nahi
Sochti Hon Keh Kaheen Kuch Kami Reh Gayi
Us Ne Ahed E Wafa Hee Nibhaya Nahi
Aag Aangan Men Aisi Lagi Thi Ajabb
Apna Aanchal Bhi Us Se Bachaya Nahi
Hum Ne Chaha Rahe Dosti Ka Bharam
Chaah Kar Bhi Use Kuch Bataya Nahi
Zard Patton Ki Manind Bikhre The Hum
Maosam E Gull Ko Lekin Bhulaya Nahi


Ghazal By Fozia Qureshi Sahiba


Click Here to Read More About Fozia Qureshi Sahiba


Comments

Popular posts from this blog

Poem, Operation Raddul Fasad By Muhammad Moghirah Siddique | Raaz Ki Batain | Masoom Pathani

اس نے مجھے میرے خوابوں میں یرغمال بنا رکھا ہے.  اس نے مجھے میرے خوابوں میں ڈرا رکھا ہے.  دھشت گردی کرتا ہے آکے  وہ میرے خوابوں میں.  جاگتے میں میں نے بھی اک پلان بنا رکھا ہے.  کہ پاک فوج نے بھی ملک میں  آپریشن ردالفساد شروع کر رکھا ہے.  اب کی بار میں بھی بلا ئونگا رینجرز والوں کو.  آکے وہ میرے خوابوں میں پکڑیں گے اسے.  ردافساد کی کی خاطر میں نے بھی اپنا نکاح رینجرز والوں کے ہاتھوں پڑھوانے  کا ارادہ بنا رکھا ہے. By: Muhammad Moghirah Siddique مانوذ  راز کی باتیں

Tire Eshq Ki KHawaish Hy CHahat HOna Meri SadGi Dakh Kia Chahta Hai?Urdu Ghazal

  ٹائر عشق کی خواہش ہے چاہت ہونا میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہے؟ کوئی بات سبر ازما چاہت ہونا آپ کو جنت مبارک رہے زاہدوں کو کی میں آپ کا اہل محفل بھاری بزم میں راز کی بات کہ دی یہ سب نہ پھر کرو کوئی شام گھر میں رہو وو اگہزل کی سچی کتاب ہے استعمال چپکے چپکے پڑھا کرو کوئی ہاتھ بھی نہ ملا۔ ایگا جو گلے ملگے تپاک سے تم نا مزاج کا شہر ہے زرا فاسلے سے ملا کرو ابھی رہا میں کا . تم جس نے دل سے بھولا دیا استعمال بھولنے کی دعا کرو مجھے استغار سی لگتی ہے تم محبتوں کی کہانیاں جو کہا نہیں وو سنا کرو جو سنا نہیں وو کہا کرو کبھی حسین پردہ نشین بھی ہو زرہ عاشقانہ لباس میں جو میں بن سنور کے کہیں چلو میرے ساتھ تم بھی چلا کرو نہ ہو حجاب وو چانڈ سا کی نظر کا کوئی آسر نہ ہو استعمال کریں تمھارے گھر کی بہار ہے استعمال کریں آنسو سے ہرا کرو  

Phul, Khushbu, Sahaab honaa To Ae Du’aa Mustajaab Honaa To Urdu GHazal By Ghalib Ayaz,

  پھول،خوشبو،صاحب ہونا ای دعا مستجاب ہونا میں گہن تک تجھے نہ لگنے دوں تم میرا احترام ہونا منزلیں انتظار میں ہونگی۔ ہاسلو!! ہم رکاب ہونا تو وکیف ای سرد او گرم بھی ہونا تمام غلطیاں دور کر دی گئیں۔ کامیاب ہونے کے لیے ایک بار اور مین استعمال دیکھ کر ہی جیتا ہون ہمیں کیا ہوا؟ غالب