Skip to main content

Ijazat Hai Poem By Saeed Ashar Sahab


مجھے منظر سے باہر اب نکلنا ہے
اجالا جس طرح کا ہو
اندھیرے کا پڑوسی ہے
پڑوسی گرچہ کافر ہو
وہ اپنا حق تو رکھتا ہے
پرندوں اور درختوں کا بھی حق ہے
محبت سب کے اندر ہے
پرندہ ہے، زمیں کا کوئی خطہ ہے
نہ تختی ہے مکانوں کی
محبت اک مسافر ہے
مسافر گر مکیں ہوگا 
تو وہ تالاب کا پانی
ہر اک ندیا سمندر کا کنارہ ہے
مجھے کس نے پکارا ہے
مجھے منظر سے باہر اب نکلنا یے
مجھے میرا ارادہ چاہیے ہے
مرے سارے تعلق واسطے مرہون ہیں اس کے
ارادہ وہ جو نیت کا بھی تابع ہے
کوئی نیت ثمر آور نہیں ہوتی اکیلے میں
اسے بھی آئنہ درکار ہوتا ہے"
مجھے منظر سے باہر اب نکلنا ہے
"مرے مرشد
مجھے تو ناچ گانے سے بہت رغبت رہی ہے
یہ سجدے میری پیشانی کا سورج بن نہیں سکتے
مجھے کچھ مردہ روحوں کی بھی سرگوشی سے دلچسپی رہی ہے
مری گٹھری میں جادو کے بھی گولے ہیں.
اجازت ہے! میں ایسا رخت اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں"
صدا کی گونج باقی ہے
"اجازت ہے"



Comments

Popular posts from this blog

Aabhi Eshq Ky UmaTi AOr Bhi HAinn CHaman AoR Bh ASiyaN AOr BHi Urdu GHazaL

  ابھی عشق کے امتی اور بھی ہیں۔ چمن اور بھی آشیان اور بھی ہیں مقامتِ اِحافہ اور بھی ہے تم شاہین ہے پرویز ہے کام تیرا ٹائر سمنے آسمان اور بھی ہیں کی تیرے زماں اےمکاں اور بھی ہیں۔ گا دن کی تنھا تھا میں انجمن میں یہ اب میرا راز دان اور بھی ہے  

KuchH Syy HoVa Bhi SarD Thi Kucchh Tha Tera Hawal Bh Dil Ko KHushi Ky Sath Sath Ho Tar Ha Milal Bhi Urdu Ghaza;l

  کچھ سے ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا تیرا ہوال بھی دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی بات وو آدھی رات کی رات وو پوری چانڈ کی چاند بھی عین بات ہے ہمیں تیرا جمال بھی سب سے نظر بچا کے وو مجھ کو کچھ ایسا دیکھتا ہے۔ ایک دفا سے رکو گا. گارڈیش-ماہ-سال بھی دل سے چمک سکوں گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لینا شیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی ہم کو نہ پا کے جب دل کا آجیب حال تھا۔ اب جو پلٹ کے دیکھئے بات تھی کچھ محل بھی میری طالب تھا ایک شاہس وو جو نہیں ملا تو پھر ہاتھ دعا سے یون گرا بھول گیا سوال بھی گاہ قریب شاہ راگ گاہ بعید وہم واحباب پر روح کے اور جال بھی شام کی نا سماج ہاوا پوچھ رہی ہے ایک پتا

Phul, Khushbu, Sahaab honaa To Ae Du’aa Mustajaab Honaa To Urdu GHazal By Ghalib Ayaz,

  پھول،خوشبو،صاحب ہونا ای دعا مستجاب ہونا میں گہن تک تجھے نہ لگنے دوں تم میرا احترام ہونا منزلیں انتظار میں ہونگی۔ ہاسلو!! ہم رکاب ہونا تو وکیف ای سرد او گرم بھی ہونا تمام غلطیاں دور کر دی گئیں۔ کامیاب ہونے کے لیے ایک بار اور مین استعمال دیکھ کر ہی جیتا ہون ہمیں کیا ہوا؟ غالب