Skip to main content

Dost Jitne The Naa Aashnaa Ban Gaye, Paarsaa Ban Gaye Jo Mere Saath Ruswa Sar E Aam Tha, Woh Teraa Naam Tha Urdu Ghazal By Qateel Shifayi

  دوست جتنے نا آشنا بن گئے، پارسا بن گئے

جو میرے ساتھ روسوا سر عام تھا، وہ تیرا نام تھا۔

گھم نے تاریکیو مجھے اچھالا مجھے، مار ڈالا مجھ سے

جس کی جھنکار میں دل کا آرام تھا، وہ تیرا نام تھا

میرے ہونٹوں پر راکسا جو ایک نام تھا، وہ تیرا نام تھا

مجھ سے منصور تھی، ایک سے ایک نئی

خوشصورت مگر جو ایک الزم تھا، وہ تیرا نام تھا۔

کسے کرتا کسی اور کی گفتگو، یاد تھا سرف تو

مجھ کو میرے جنوں کا جو انعام تھا، وہ تیرا نام تھا

سبھ سے شام تک جو میرے پاس تھی، وہ تیری آس تھی

شام تک جو کچھ لیب ای بام، وہ تیرا نام تھا۔

ایک نئی چاندنی کا جو پائیگم تھا، وہ تیرا نام تھا۔

تیرے ہی دم سے ہے یہ 'قتیل' آج بھی، شائری کا والی

ہم کی غزلوں میں کل بھی جو الہام تھا، وہ تیرا نام تھا


 قتیل شفائی

 

Comments

Popular posts from this blog

Aabhi Eshq Ky UmaTi AOr Bhi HAinn CHaman AoR Bh ASiyaN AOr BHi Urdu GHazaL

  ابھی عشق کے امتی اور بھی ہیں۔ چمن اور بھی آشیان اور بھی ہیں مقامتِ اِحافہ اور بھی ہے تم شاہین ہے پرویز ہے کام تیرا ٹائر سمنے آسمان اور بھی ہیں کی تیرے زماں اےمکاں اور بھی ہیں۔ گا دن کی تنھا تھا میں انجمن میں یہ اب میرا راز دان اور بھی ہے  

KuchH Syy HoVa Bhi SarD Thi Kucchh Tha Tera Hawal Bh Dil Ko KHushi Ky Sath Sath Ho Tar Ha Milal Bhi Urdu Ghaza;l

  کچھ سے ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا تیرا ہوال بھی دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی بات وو آدھی رات کی رات وو پوری چانڈ کی چاند بھی عین بات ہے ہمیں تیرا جمال بھی سب سے نظر بچا کے وو مجھ کو کچھ ایسا دیکھتا ہے۔ ایک دفا سے رکو گا. گارڈیش-ماہ-سال بھی دل سے چمک سکوں گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لینا شیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی ہم کو نہ پا کے جب دل کا آجیب حال تھا۔ اب جو پلٹ کے دیکھئے بات تھی کچھ محل بھی میری طالب تھا ایک شاہس وو جو نہیں ملا تو پھر ہاتھ دعا سے یون گرا بھول گیا سوال بھی گاہ قریب شاہ راگ گاہ بعید وہم واحباب پر روح کے اور جال بھی شام کی نا سماج ہاوا پوچھ رہی ہے ایک پتا

Phul, Khushbu, Sahaab honaa To Ae Du’aa Mustajaab Honaa To Urdu GHazal By Ghalib Ayaz,

  پھول،خوشبو،صاحب ہونا ای دعا مستجاب ہونا میں گہن تک تجھے نہ لگنے دوں تم میرا احترام ہونا منزلیں انتظار میں ہونگی۔ ہاسلو!! ہم رکاب ہونا تو وکیف ای سرد او گرم بھی ہونا تمام غلطیاں دور کر دی گئیں۔ کامیاب ہونے کے لیے ایک بار اور مین استعمال دیکھ کر ہی جیتا ہون ہمیں کیا ہوا؟ غالب