Skip to main content

Ghubar Main Thori Bht Kami Hojye Tumhra Nam Bh Sun Lo To Roshni Hojye Urdu Ghazal By Shahzad Ahmed

 غبارِ طبع میں تھوڑی بہت کمی ہو جائے

تمھارا نام بھی سُن لوں تو روشنی ہو جائے

ذرا خیال کرو، وقت کس قدر کم ہے

میں جو قدم بھی اُٹھا لوں ، وہ آخری ہو جائے

 قیامتیں تو ہمیشہ گزرتی رہتی ہیں

عذاب اُس کے لئے جس کو آگہی ہو جائے

 گزر رہے ہیں مرے رات دن لڑائی میں

میں سوچتا ہوں کہ مجھ کو شکست  ہی ہو جائے

 عجیب شخص ہے تبدیل ہی نہیں ہوتا

جو اُس کے ساتھ رہے چند دن وہی ہو جائے

 مرا نصیب کنارہ ہو یا سمندر ہو

جو ہو گئی ہے، تو لہروں سے دشمنی ہو جائے

 تمام عمر تو دوری میں کٹ گئی میری

نہ جانے کیا ہو؟ اگر اس سے دوستی ہو جائے

 بس ایک وقت میں ساری بلائیں ٹوٹ پڑیں

اگر سفر یہ کٹھن ہے تو رات بھی ہو جائے

 میں سو نہ جاؤں جو آسانیاں میسر ہوں

میں مر نہ جاؤں اگر ختم تشنگی ہو جائے

 نہیں ضرور کہ اونچی ہو آسمانوں سے

یہی بہت ہے زمیں پاؤں پر کھڑی ہو جائے

 تمام عمر سمٹ آئے ایک لمحے  میں

میں چاہتا ہوں کہ ہونا ہے جو ابھی  ہو جائے

وہی ہوں میں وہی امکاں کے کھیل ہیں شہزادؔ 

کبھی فرار بھی ممکن نہ ہو، کبھی ہو جائے


 شہزادؔ احمد


 

Comments

Popular posts from this blog

Harrr Aikk BAtt Pr Khety Ho TumM Ki Kia Haye TuM Kahu Kii AndAz GhuftoGo KIA Hye Urdu Ghazal

  ہر ایک بات پر کہتے ہو تم کی تم کیا ہے ۔ تم کہو کی تم اندازِ گفتگو کیا ہے کوئی باتو کی وو شوہ ٹنڈ-ہو کیا ہے تم رشک ہے کی وو ہوتا ہے ہم سوہان تم سے وگرنا ہوفِ بدِ آموزِ عدو کیا ہے جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا ۔ ہو جو اب جب آنکھوں سے نہ تپکا تو پھر لہو کیا ہے۔ وو چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز سیوا بدا گلفام مشک بو کیا ہے پیون شراب آگر ہم بھی دیکھ لو دو چار تم شیشہ او قضا اور کوزہ یا سب کیا ہے راہی نہ تختِ گفتار اور آگر ہو بھی کس امید پر کہیے کی آرزو کیا ہے؟ ہوا ہے شاہ کا مصاحب پھر ہے سفر واگرنا شہر میں 'حلب' کی آبرو کیا ہے

vo jo ham meñ tum meñ qarār thā tumheñ yaad ho ki na yaad ho vahī ya.anī va.ada nibāh kā tumheñ yaad ho ki na yaad ho urdu ghazal

  وو جو ہم میں تم میں قرار تھا تم یاد ہو کی نہ یاد ہو واہی یاد کرنا وو جو لطف مجھ پہ بیشتر وو کرم کی تھا میرا حال پر مجھے سب ہے یاد زرا زرا تم یاد ہو کی نہ یاد ہو وو ہر ایک بات پر روٹھنا تم یاد ہو کی نہ یاد ہو کبھی بائی سب میں جو رو-با-رو سے عشراتواں ہی سے گفتگو وو بیان شوق کا برمالا تم یاد ہو کی نہ یاد ہو ہوا اتفاق سے گار بہم سے وفا جتانے کو دام-با-دم کوئی بات ایسی آگر ہوئی کی تمھارے جی کو پوری لگی تو بیان سے پہلے ہی بھولنا تم یاد ہو کی نہ یاد ہو کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی رہ تھی کبھی ہم بھی تم بھی آشنا تم یاد ہو کی نہ یاد ہو سنو ذکر ہے کا. سال کا کیا کیا آپ نے کہا تھا تو نباہنے کا تو ذکر کیا تم یاد ہو کی نہ یاد ہو کہا میں نے بات کو کہ میرے دل سے صاف اتر گا تو کہے جانے میری بالا تم یاد ہو کی نہ یاد ہو وو بگڑنا وسل کی رات کا وو نا ماننا کسی بات کا وو نہیں نہیں کی ہر آن ادا تم یاد ہو کی نہ یاد ہو