Skip to main content

"Mar Ny Ki Dua" Tumm Duniya Hoo Ya Wo Ho Duniya Abb Ho Ahesh Duniya Kon Kry Jb Kshti Sabit Wa Salim Thi Sahil Ki Tamna Kis Ko Thi Urdu Ghazal..

 مارنے کی دعا

تم دنیا ہو یا وو دنیا اب ہواہیش دنیا کون کرے

جب کشتی ثابت و سالم تھی ساحل کی تمنا کس کو تھی



اب ایسی شکست کاشتی پر ساحل کی تمنا کون کرے

جو آگ لگا۔ تھی تم نے ہم کو سمجھنا اشکون نے

جو اشکون نے بھڑکا.ئی ہے ہمیں آگ کو ٹھنڈا کون کرے

دنیا نے ہمیں چھوڑھا 'جزبی' ہم چھوٹ نہ دینا کیوں دنیا کو

دنیا کو سمجھ کر بائی یہ ہے اب دنیا دنیا کون کرے

جاؤ زرا سی بات پر بارسواں کے یارانے گا

گرمی محفل فقہ ایک نظر مستانہ ہے ۔

اور وو ہوش ہے کی محفل سے دیوانے گا

مجھ سے پہلے ہمیں گلی میں میرے افسانے گا

ہم جہاں پہونچے ہمارے ساتھ ساتھ ویرانے گا

اب بھی ان یادوں کی حُشبُو زہن میں محفوظ ہے

بار ہا ہم جن سے گلزاروں کو مہکنے گا

کیا قیام ہے کی 'ہاتیر' کشتہ شب بھی ہم

Comments

Popular posts from this blog

Aabhi Eshq Ky UmaTi AOr Bhi HAinn CHaman AoR Bh ASiyaN AOr BHi Urdu GHazaL

  ابھی عشق کے امتی اور بھی ہیں۔ چمن اور بھی آشیان اور بھی ہیں مقامتِ اِحافہ اور بھی ہے تم شاہین ہے پرویز ہے کام تیرا ٹائر سمنے آسمان اور بھی ہیں کی تیرے زماں اےمکاں اور بھی ہیں۔ گا دن کی تنھا تھا میں انجمن میں یہ اب میرا راز دان اور بھی ہے  

Poem, Operation Raddul Fasad By Muhammad Moghirah Siddique | Raaz Ki Batain | Masoom Pathani

اس نے مجھے میرے خوابوں میں یرغمال بنا رکھا ہے.  اس نے مجھے میرے خوابوں میں ڈرا رکھا ہے.  دھشت گردی کرتا ہے آکے  وہ میرے خوابوں میں.  جاگتے میں میں نے بھی اک پلان بنا رکھا ہے.  کہ پاک فوج نے بھی ملک میں  آپریشن ردالفساد شروع کر رکھا ہے.  اب کی بار میں بھی بلا ئونگا رینجرز والوں کو.  آکے وہ میرے خوابوں میں پکڑیں گے اسے.  ردافساد کی کی خاطر میں نے بھی اپنا نکاح رینجرز والوں کے ہاتھوں پڑھوانے  کا ارادہ بنا رکھا ہے. By: Muhammad Moghirah Siddique مانوذ  راز کی باتیں

KuchH Syy HoVa Bhi SarD Thi Kucchh Tha Tera Hawal Bh Dil Ko KHushi Ky Sath Sath Ho Tar Ha Milal Bhi Urdu Ghaza;l

  کچھ سے ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا تیرا ہوال بھی دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی بات وو آدھی رات کی رات وو پوری چانڈ کی چاند بھی عین بات ہے ہمیں تیرا جمال بھی سب سے نظر بچا کے وو مجھ کو کچھ ایسا دیکھتا ہے۔ ایک دفا سے رکو گا. گارڈیش-ماہ-سال بھی دل سے چمک سکوں گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لینا شیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی ہم کو نہ پا کے جب دل کا آجیب حال تھا۔ اب جو پلٹ کے دیکھئے بات تھی کچھ محل بھی میری طالب تھا ایک شاہس وو جو نہیں ملا تو پھر ہاتھ دعا سے یون گرا بھول گیا سوال بھی گاہ قریب شاہ راگ گاہ بعید وہم واحباب پر روح کے اور جال بھی شام کی نا سماج ہاوا پوچھ رہی ہے ایک پتا