Skip to main content

Punjab Hoo Yaa Sindh Makn Hoo Yaa Pind Tery Sr Pyy Ghareeby Baal Hoo Yaaa Tind Ya ajab Hayee Bukhar Beyyy Maari Salaaab Hayee Halaat Haain Khaateen Saab Beyy Maar Haaain Urdu Ghazal By Faris Shafi

پنجاب ہو یا سندھ

مکن ہو یا پنڈ

تیرے سر پے، غریبے۔

بال ہو یا ٹنڈ

یہ عجب ہے بخار ہے۔

بےماری سالاب ہے۔

حلات ہیں خطین

سب بےمار ہیں


پاکستان وار ادا تیر ہے

ہاتھ مین تلوار تائی

کلام سے بیکار ہے۔

ایسی لیا سب بیروزگار پریشاں ہیں۔

لوڈشیڈنگ خاص کو کہتے ہیں۔

ٹور ادا یہ قوم

آواز ہے

لاہور مین آندھرے ۔

اور بم بھیے بٹھائے

اور مسپل اور آف سپرے

  کھالی کنٹینر

اور ہونڈا ہی ہونڈا ہے۔

ہونڈا مین لاوندے ہی لونڈے

ہارن ڈی کے

کون دیکھے چور کنے ہونڈے نہ بندے۔

میری گاری مین

کیون گھرتے ہیں ساری قصور انکا نئی

آرے بھول گئے ہیں سالے۔

مجبوری کے مارے  سکول نہیں گے لورے

اسے ٹھنڈا کریں۔

مل گیا جو تم مجھ سے چاہتے ہو۔

اسے ٹھنڈا کریں۔

آپ کو مجھ سے جو ضرورت ہے لے لو

اسے ٹھنڈا کریں۔

جی ہاں، آپ بہت اچھے ہوں گے۔

نیوا کول ہو ہو

سالے!

بدمعاش ہیں۔

دل مین!

داری مین خراش ہے۔

ہمارے

روحِ ایمان ہے۔

کاہن؟

انصاف ہے کہاں؟

نیٹو فوج سے قوم ہے ہمیشہ کہتے ہیں لن ادا

بارہ گئے کھرچے، اور اب اگرچے۔

ہم آپس مین لار کے

اور جھگڑا

اک دوجے کہہ سرہ کے

جل کے مار گئے

مذہب  کے مسئلے

غضب کے جلسے

قاتل کے ہملے

پاکستان کو لگ گیا، لسان کے ترک

عقال ادا طلائی

ہمارے، لوگون کو پسند ہیں؟

کبرین

پسند ہیں خبریں۔

اور اب یہ لڑکے

بھڑکے، نخواں چباتے

بندوقیں پکڑکے

اور سر کھجاتے ہیں۔

بم جکڑ ک

بس چلتے جاتے

جہاد چلتے ہیں۔

پختون علم کے تراف

براف، مشرف

کے دوست میرین ڈرون

اپنا پوسٹ مارٹم جلد کروائیں یا

پوسٹ ماڈرن روم حاصل کریں۔

کچھ شوروم کرو

اور کارٹون دیکھیں

میرا دوست افلاطون

ہر وقت مجھے کہتے ہیں۔

بند رکھ اپنا من

ٹھنڈ رکھ لڑکے تو

گلیاں نہ دیا کر

یہ بات جا کے تم

عالیہ کہو کیا کر!

گلیوں کے بینا یہ جہالیہ نہ سنتے

موالی ہیں یہ غنڈے

حرامی ہیں یہ کتے۔

غلازت کے یہ پوتلے ۔

اعجاز نہیں ہے ورنا

ارادے میرے اچھے تھے۔

نوابوں کے یہ گردے

سلام نہ کہ بچنائے، سورج بچھائے۔

کھا لونگا مین انیں بھون کے

چون چن ک

جن جن کی

واجا کہو ہم سب پاکستانی لگتے ہیں

گم سم کہتے ہیں دم بے

!سالے۔۔۔۔!

Comments

Popular posts from this blog

Aabhi Eshq Ky UmaTi AOr Bhi HAinn CHaman AoR Bh ASiyaN AOr BHi Urdu GHazaL

  ابھی عشق کے امتی اور بھی ہیں۔ چمن اور بھی آشیان اور بھی ہیں مقامتِ اِحافہ اور بھی ہے تم شاہین ہے پرویز ہے کام تیرا ٹائر سمنے آسمان اور بھی ہیں کی تیرے زماں اےمکاں اور بھی ہیں۔ گا دن کی تنھا تھا میں انجمن میں یہ اب میرا راز دان اور بھی ہے  

KuchH Syy HoVa Bhi SarD Thi Kucchh Tha Tera Hawal Bh Dil Ko KHushi Ky Sath Sath Ho Tar Ha Milal Bhi Urdu Ghaza;l

  کچھ سے ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا تیرا ہوال بھی دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی بات وو آدھی رات کی رات وو پوری چانڈ کی چاند بھی عین بات ہے ہمیں تیرا جمال بھی سب سے نظر بچا کے وو مجھ کو کچھ ایسا دیکھتا ہے۔ ایک دفا سے رکو گا. گارڈیش-ماہ-سال بھی دل سے چمک سکوں گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لینا شیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی ہم کو نہ پا کے جب دل کا آجیب حال تھا۔ اب جو پلٹ کے دیکھئے بات تھی کچھ محل بھی میری طالب تھا ایک شاہس وو جو نہیں ملا تو پھر ہاتھ دعا سے یون گرا بھول گیا سوال بھی گاہ قریب شاہ راگ گاہ بعید وہم واحباب پر روح کے اور جال بھی شام کی نا سماج ہاوا پوچھ رہی ہے ایک پتا

Phul, Khushbu, Sahaab honaa To Ae Du’aa Mustajaab Honaa To Urdu GHazal By Ghalib Ayaz,

  پھول،خوشبو،صاحب ہونا ای دعا مستجاب ہونا میں گہن تک تجھے نہ لگنے دوں تم میرا احترام ہونا منزلیں انتظار میں ہونگی۔ ہاسلو!! ہم رکاب ہونا تو وکیف ای سرد او گرم بھی ہونا تمام غلطیاں دور کر دی گئیں۔ کامیاب ہونے کے لیے ایک بار اور مین استعمال دیکھ کر ہی جیتا ہون ہمیں کیا ہوا؟ غالب